Showing posts with label ZuLfiqar's Collection. Show all posts
Showing posts with label ZuLfiqar's Collection. Show all posts

Sunday, 10 February 2019

رات کا پہلا پہر

ڈوب جائیں گے ستارے اور بکھر جائے گی رات
دیکھتی رہ جائیں گی آنکھیں گزر جائے گی رات

رات کا پہلا پہر ہے اہل دل خاموش ہیں
صبح تک روتی ہوئی آنکھوں سے بھر جائے گی رات

آرزو کی بے حسی کا گر یہی عالم رہا
بے طلب آئے گا دن اور بے خبر جائے گی رات

روشنی کیسی اگر عالم اندھیرا ہو گیا
دل میں بس جائے گی آنکھوں میں اتر جائے گی رات

کوئی آہٹ بھی نہ سن پائے گا خوابیدہ چمن
خشک پتوں پر دبے پاؤں گزر جائے گی رات

دل میں رہ جائیں گے تنہائی کے قدموں کے نشاں
اپنے پیچھے کتنی یادیں چھوڑ کر جائے گی رات

شام ہی سے سو گئے ہیں لوگ آنکھیں موند کر
کس کا دروازہ کھلے گا کس کے گھر جائے گی رات

دیر تک شہزادؔ آنکھوں میں پھرے گی چاندنی
کٹ تو جائے گی مگر کیا کچھ نہ کر جائے گی رات

شہزاد احمد

Monday, 4 February 2019

میں ایسی محبت کرتی ہوں

شیریں بھی نہیں، لیلہ بھی نہیں
میں ہیر نہیں، عذرا بھی نہیں
وہ قصہ ہیں، افسانہ ہیں
وہ گیت ہیں ، پریم ترانہ ہیں
میں زندہ ایک حقیقت ہوں
میں جذبہء عشق کی شدت ہوں
میں تم کو دیکھ کے جیتی ہوں
میں ہر پل تم پہ مرتی ہوں

’میں ایسی محبت کرتی ہوں‘
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

جب ہاتھ دعا کو اٹھتے ہیں
الفاظ کہیں کھو جاتے ہیں
بس دھیان تمہارا رہتا ھے
اور آنسو بہتے رہتے ہیں
ہر خواب تمہارا پورا ہو
اس رب کی منت کرتی ہوں

’میں ایسی محبت کرتی ہوں‘
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

مجھے ٹھنڈک راس نہیں آتی
مجھے بارش سے خوف آ تا ھے
پر جس دن سے معلوم ہوا
یہ موسم تم کو بھاتا ھے
اب جب بھی ساون آتا ھے
بارش میں بھیگتی رہتی ہوں
قطروں میں تمہی کو ڈھنڈتی ہوں
بوندں سے تمہارا پوچھتی ہوں

’میں ایسی محبت کرتی ہوں‘
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

’میں ایسی محبت کرتی ہوں‘
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

سب کہتے ہیں اس دنیا کا
ہر رنگ تمہی سے روشن ھے
میرے عشق کے دعویدار ہیں سب
پر مجھ کو ایسا لگتا ھے
ہر رگ تمہی پہ جچتا ھے
تم نہ ہو تو بےرنگ ہوں میں
بے رونق ھے تصویر میری
تم خواب میرا، تعبیر میری
تم سے ھے جڑی تقدیر میری
جو خاک تمہیں چھو جاتی ھے
اس مٹی پر میں مرتی ہوں.

Saturday, 2 February 2019

ﻣﺠﮭﮯ اس ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ھے

ﻣﺠﮭﮯ اس ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ھے _ !

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﯿﭗ ﮐﻮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﺑﻮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﻮ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﻮﮞ ﺳﮯ

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﻟﺒﮭﺎﺗﯽ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﮕﻨﻮؤﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﺕ ﺁﻧﭽﻞ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎﺗﯽ
ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻮﺝ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﻞ ﭘﻞ ﺗﺮﺳﺘﯽ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮬﻮﺍ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﺑﺴﺘﯽ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﺸﮏ ﺻﺤﺮﺍ ﺍﺑﺮ ﮐﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺑﻼﺗﺎ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﭩﮑﺎ ﺭﺍﮬﯽ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺭﺍﻧﯽ ﮐﻮ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺷﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺷﺒﻨﻤﯽ ﺑﻮﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﻠﯿﺎﮞ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﮬﮯ ﺍﭨﻞ
ﺍﯾﺴﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﮭﯿﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﻨﻮﻝ
ﺍﯾﺴﮯ
ﮐﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻔﻆ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺭﻧﮓ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻼﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ

ﮐﮧ ﻧﯿﻠﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺭﻭﺷﻦ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺍﺱ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﮧ ﮐﭽﮫ ﭘﻞ ﺳﺎﻧﺲ کی
خواہش

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻟﻤﺲ ﻋﯿﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﻮ ﺭﺍﺣﺖ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺍﮎ ﻏﻤﺨﻮﺍﺭ ﮐﺎ
ﺭﺷﺘﮧ

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﮯ ﺭﺍﮨﯽ ﺳﮯ ﺳﺎﯾﮧء ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﺎ
رشتہ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﺎﻧﺴﺮﯼ ﮐﯽ ﻟﮯ ﭘﮧ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﮔﯿﺖ ﺑﻨﺘﯽ
ﮨﯿﮟ

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﺻﻞ ﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺳﻨﮕﯿﺖ ﺑﻨﺘﯽ
ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﻠﺒﻠﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﯽ
ﮨﯿﮟ

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﭼﻮﺩﮨﻮﯾﮟ ﮐﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﻮ ﻟﮩﺮﯾﮟ ﺑﻼﺗﯽ

Sunday, 9 December 2018

کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا

کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا

خیر سینے سے لگا لوں تو چلے جائیے گا

میں زخود رفتہ ہوا سنتے ہی جانے کی خبر

پہلے میں آپ میں آ لوں تو چلے جائیے گا

راستہ گھیرے ہیں ارمان و قلق حسرت و یاس

میں ذرا بھیڑ ہٹا لوں تو چلے جائیے گا

پیار کر لوں رخ روشن کی بلائیں لے لوں

قدم آنکھوں سے لگا لوں تو چلے جائیے گا

میرے ہونے ہی نے یہ روز سیہ دکھلایا

اپنی ہستی کو مٹا لوں تو چلے جائیے گا

چھوڑ کر زندہ مجھے آپ کہاں جائیں گے

پہلے میں جان سے جا لوں تو چلے جائیے گا

آپ کے جاتے ہی بیدمؔ کی سنے گا پھر کون

اپنی بیتی میں سنا تو چلے جائیے گا......!!!

Thursday, 30 March 2017

شدت عشق ضم کیجئے

شدت عشق ضم کیجئے
یا دردِ مُحبت کم کیجئے

تکمیلِ تعلق جب ناممکن 
مُبہم سلسلے ختم کیجئے

چاہت ہے توحید جیسی
بس اِک کو صنم کیجئے

ہر درد اپنا ہی لگے گا
ذرا محبت کا وہم کیجئے

مُشکلاتِ زندگی میری
مل کر کُچھ کم کیجئے

خاموشی سُخنورِ جہاں 
تنہائی کو باہم کیجئے

دَر باطن بھی وا ہوگا
ذرا آنکھ تو نم کیجئے

پُرانے گھاؤ بھر چُکے
عنایت مزید الم کیجئے

جان گئے رمزِ درد اب
نئے کُچھ ستم کیجئے

ہم مَر مٹے کیوں تُم پہ
استعمال ذرا فہم کیجئے

میں ، تُم ، تنہا ، تنہا
اپنا کر ' ہَم ' کیجئے

مزاج یار کے آگے بس
سر تسلیمِ خم کیجئے

عشق اوّل ، عمرِ آخر
کُچھ تو شرم کیجئے

زیست اذیت مسلسل
مرگ آ کر رحم کیجئے

زود اثر ہوں گے الفاظ
لہجہ ہمیشہ نرم کیجئے

وقت لگا ہے بھرنے
ہرے پھر زخم کیجئے

گُفتگو قلب و روح
دھڑکنیں باہم کیجئے

خوشی میسر تا عمر
خواہشات کَم کیجئے

سر چڑھ کر جو بولے
جادو وہ ہردَم کیجئے

جب رَب ہی ہے سب کچھ
پھر کاہے کو غم کیجئے

Sunday, 19 March 2017

کوئی تردید کا صدمہ

کوئی تردید کا صدمہ ہے نہ اثبات کا دُکھ

جب بچھڑنا ہی مقدر ہے تو کس بات کا دُکھ
اب کوئی اور تمنا ہے عذابِ دل و جاں

اب کسی حرف میں تُو ہے نہ تری ذات کا دُکھ
میز پر چائے کے دو بھاپ اُڑاتے ہوئے کپ

اور بس سامنے رکھا ہے ملاقات کا دُکھ
مضمحل جسم سے ناراض سرکتی ہوئی شال
کیوں چھپانے سے چُھپایا نہ گیا رات کا دُکھ

اَب مرے دل میں نہیں تیرے بچھڑنے کی کسک
اَب کے بیگانہ روی میں ہے مُناجات کا دُکھ

خشک جنگل سے کسی دن تو دھواں اٹھتا ہے
اور جہالت بھی اُٹھاتی ہے فسادات کا دُکھ...!!!

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩِﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩِﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ
ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮔُﻼﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﭼَﮭﻨﺘﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻟﮩﺠﮧ ﺷﺮﺍﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺯُﻟﻔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮔﮭﭩﺎ
ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭُﺥ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ
ﻟﻮﮒ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺧﺎﻝ ﻭ ﺧَﺬ ﺍُﺱ ﮐﮯ
ﻭﮦ ﺍَﺩﺏ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏِ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ
ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺯﺑﺎﻥ ﺧُﻮﺷﺒﻮ ﮐﯽ
ﻟﻮﮒ ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩِﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ
ﺳﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺁﺋﻨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ
ﺳﺎﺭﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ
ﺳﺐ ﺳﮯ ﮔُﮭﻞ ﻣﻞ ﮐﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺭﮨﻨﺎ
ﺍﯾﮏ ﺩﺭﯾﺎ ﻧُﻤﺎ ﺳَﺮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ
ﺧﻮﺍﺏ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ " ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﮭﺎ "
ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ
ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﮧ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﺻُﻮﺭﺕ ﺳﺎﯾﮧ ﻭ ﺳﺤﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ
ﺍﭘﻨﯽ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ﺍُﺳﯽ ﮐﯽ ﻧﺬﺭ ﮨُﻮﺋﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﺗﺠﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩِﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ
ﺟﺐ ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺩﻝ ﮐﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺭﻧﮓ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﻧﭽﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩِﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ
ﯾﮧ ﻣﮕﺮ ﺩﯾﺮ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﻣﮕﺮ ﺩُﻭﺭ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻼﭖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ
ﺍَﺏ ﺗﻮ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﺣﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﯽ
ﺩﺷﺖِ ﮨﺠﺮﺍﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ
ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﺍِﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ...!!!

کچھ دن تَو بسو مری آنکھوں میں

کچھ دن تَو بسو مری آنکھوں میں
پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا

کوئی رنگ تو دو مرے چہرے کو
پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا

جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا

اِک آئینہ تھا سو ٹوٹ گیا
اب خود سے اگر شرماؤ تو کیا

تم آس بندھانے والے تھے،
اب تم بھی ہمیں ٹھکراؤ تو کیا

دنیا بھی وہی اور تم بھی وہی
پھر تم سے آس لگاؤ تو کیا

میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا

جب دیکھنے والا کوئی نہیں
بجھ جاؤ تو کیا گہناؤ تو کیا

اِک وہم ہے یہ دُنیا اس میں
کچھ کھوؤ تو کیا اور پاؤ تو کیا

ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں
جی جاؤ تو کیا مر جاؤ تو کیا

عبیداللہ علیم

Saturday, 18 March 2017

مسافر تو بچھڑتے ہیں


مسافر تو بچھڑتے ہیں، رفاقت کب بدلتی ہے
محبت زندہ رہتی ہے، محبت کب بدلتی ہے

تمہی کو چاہتے ہیں ہم، تمہی سے پیار کرتے ہیں
یہی برسوں سے عادت ہے، یہ عادت کب بدلتی ہے

تمھیں جو یاد رکھا ہے، یہی اپنی عبادت ہے
عبادت کرنے والوں کی عبادت کب بدلتی ہے

کِلی کا پھول بننا اور بکھر جانا مقدر ہے
یہی قانونِ فطرت ہے یہ فطرت کب بدلتی ہے

جو دل پہ نقش ہو جائے، نگاہوں میں سمٹ آئے
علامت ہے یہ چاہت کی تو چاہت کب بدلتی ہے

پُرانے زخم کو -------بُھلا دینا ہی اچھا ہے
اگر چاہے نہ خود کوئی تو قسمت کب بدلتی ہے

کبھی کبھی تو جذبِ عشق

کبھی کبھی تو جذبِ عشق مات کھا کے رہ گیا
کہ تجھ سے مل کے بھی ترا خیال آ کے رہ گیا

جدائیوں کے مرحلے بھی حُسن سے تہی نہ تھے
کبھی کبھی تو شوق آئنے دکھا کے رہ گیا

کسے خبر کہ عشق پر قیامتیں گزر گئیں
زمانہ اس نگاہ کا فریب کھا کے رہ گیا

یہ کیا مقامِ شوق ہے، نہ آس ہے کہ یاس ہے
یہ کیا ہوا کہ لب پہ تیرا نام آ کے رہ گیا

کوئ بھی ہم سفر نہ تھا شریکِ منزلِ جنوں
بہت ہوا تو رفتگاں کا دھیان آ کے رہ گیا

چراغِ شامِ آرزو بھی جھلملا کے رہ گۓ
ترا خیال راستے سُجھا سُجھا کے رہ گیا

چمک چمک کے رہ گئیں نجوم و گل کی منزلیں
میں درد کی کہانیاں سُنا سُنا کے رہ گیا

ترے وصال کی امید اشک بن کے بہہ گئ
خوشی کا چاند شام ہی سے جھلملا کے رہ گیا

وہی اداس روز و شب، وہی فسوں، وہی ہوا
ترے وصال کا زمانہ یاد آ کے رہ گیا

پیوست دِل میں جب تِرا تیرِ نظر ہوا

پیوست دِل میں جب تِرا تیرِ نظر ہوا
کس کس ادا سے شکوۂ دردِ جِگر ہوا

کُچھ داغِ دل سے تھی مُجھے اُمید عشق میں
سو رفــــتہ رفـــــــــتہ وہ بھی چراغِ سحر ہوا

تھم تھم کے اُن کے کان میں پہنچی صدائے دِل
اُڑ اُڑ کے رنگِ چــــــــــــــــہرہ مِرا نامــــــہ بر ہوا

سینے میں پِھر بھڑکنے لگی آتشِ فراق
دامن میں پھر معامـــــــلۂ چشمِ تر ہوا

رگ رگ نے صدقے کر دیا سرمایۂ شکیب
اللہ! کس کا خانۂ دِل میں گُـــــــــــزر ہوا

فریاد کیسی کِس کی شکایت کہاں کا حشر
دنیا اُدھر کی ٹوٹ پـــــــــــڑی وہ جدھر ہوا

وارفتگیِ شوق کا اللہ رے کمال
جو بے خبر ہوا وہ بڑا باخبر ہوا

حسرت اُس ایک طائرِ بے کس پر اے جگر
جو فصلِ گُل کے آتے ہی بے بال و پـــر ہوا

میرے درد کی جو دوا کرے

میرے درد کی جو دوا کرے کوئی ایسا شخص ہوا کرے
وہ جو بے پناہ اداس ہو مگر ہجر کا نا گلہ کرے

میری چاہتیں میری قربتیں جسے یاد آئیں قدم قدم
تو وہ سب سے چھپ کے لباس شب میں لپٹ کے آہ و بقا کرے

بڑھے اسکا غم تو قرار کھودے وہ میرے غم کے خیال سے
اٹھے ہاتھ اپنے لئے تو پھر بھی میرے لئے ہی دعا کرے

یہ قصص عجیب و غریب ہے یہ محبتوں کا نصیب ہے
مجھے کیسے خود سے جدا کرے، کوئی کچھ بتائے کہ کیا کرے

کبھی طے کرے یونہی سوچ سوچ وہ فراق کے سارے فاصلے
میرے پیچھے آ کے دبے دبے میری آنکھیں موند ہنسا کرے

بڑا شور ہے میرے شہر میں کسی اجنبی کے نزول کا
وہ میری ہی جان نہ ہو کہیں، کوئی کچھ تو جا کے پتا کرے

یہ تو میرے دل ہی کا عکس ہے، میں نہیں ہوں پھر میری آرزو
کو جنوں ہے مجھے یہ بنا دے تو پھر جو چاہے قضا کرے

بھلا کیسے ہی اپنے آپ کو میں رفیق جاں بنا سکوں
کوئی اور ہے تو بتا تو دے،کوئی ہے کہیں تو صدا کرے

اسے ڈھونڈتی ہیں گلی گلی میری خلوتوں کی اداسیاں
وہ ملے تو بس یہ کہوں کہ آ، میرا مولا تیرا بھلا کرے

Thursday, 16 March 2017

آنکھوں کو پُر نم

آنکھوں کو پُر نم ، حسرت کا دروازہ وا رکّھا ہے
اپنے ٹوٹے خواب کو ہم نے' اب تک زندہ رکّھا ہے

عشق کِیا تو ٹوٹ کے جی بھر ' نفرت کی تو شدّت سے
اپنے ہر کردار کا چہرہ ' ہم نے اُجلا رکّھا ہے

جو آیا بازار میں وہ بس جانچ پرَکھ کر چھوڑ گیا
ہم نے خود کو سوچ سمجھ کر ' تھوڑا مہنگا رکّھا ہے

تھا اعلان کہانی میں' اک روز ندی بھی آئے گی
ہم نے اِس امّید میں خود کو اب تک پیاسا رکّھا ہے.!!!

یہ غم نہیں کہ وہ مجھ سے

یہ غم نہیں کہ وہ مجھ سے وفا نہیں کرتا
ستم تو یہ ہے کہ کہتا ہے 'جا، نہیں کرتا'

طلوعِ عارض و لب تک میں صبر کرتا ہوں
سو، منہ اندھیرے غزل ابتدا نہیں کرتا

یہ شہر ایسے حریصوں کا شہر ہے کہ یہاں
فقیر بھیک لیے بِن دعا نہیں کرتا

زباں کا تلخ ہے لیکن، وہ دل کا اچھا ہے
سو، اس کی بات پہ میں دل برا نہیں کرتا

بس ایک مصرعۂ تر کی تلاش ہے مجھ کو
میں سعیِ چشمہء آبِ بقا نہیں کرتا

شہیدِ عشق کی سرشاریاں ملاحظہ ہوں
گلا کٹا کے بھی خوش ہے، گِلہ نہیں کرتا

رحمان فارس

مجھے آرزوئے سحر رہی

مجھے آرزوئے سحر رہی،
یونہی رات بڑی دیر تک ....
نہ بکھر سکا، نہ سمٹ سکا،
یونہی رات بڑی دیر تک ....
ہیں بہت عذاب اور اکیلے ہم،
شبِ غم بھی میری طویل تر ...
رہی زندگی بھی سراب اور،
رہی آنکھ تر بڑی دیر تک ....
یہاں ہر طرف ہے عجب سماں،
سبھی خود پسند
سبھی خود نما،
دل بےقرار کو نہ ملا،
کوئی چارہ گر بڑی دیر تک ....
مجھے زندگی ہے عزیز تر،
اسی واسطے میرے ہمسفر ....
مجھے قطرہ قطرہ پلا زہر،
جو کرے اثر بڑی دیر تک .....

ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ

ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ !...
ﻣَﮕﺮ ﻣَﻄﻠَﺐ ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﺎ،
ﺳَﻤﺠﮫ ﻟَﯿﻨﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﻥ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﭘﺎ ﮐﮯ ﮐَﮭﻮ ﺩَﯾﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﮭﻮ ﮐﮯ ﭘﺎ ﻟَﯿﻨﺎ،
ﯾﮧ ﺍُﻥ ﻟَﻮﮔُﻮﮞ ﮐﮯ ﻗِﺼّﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﺟَﻮ ﻣُﺠﺮِﻡ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻣِﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﮨَﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺑِﭽَﮭﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺭَﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
!.............! ﺳُﻨﻮ !.............!
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗَﻮ،
ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣَﻮﺵ ﮨَﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻗُﺮﺑَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻓُﺮﻗَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﻓَﺮﯾﺎﺩ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﺍَﺷﮑُﻮﮞ ﮐَﻮ ﭘِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟَﻔﻆ ﮐﺎ،
ﭼَﺮﭼﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﻭﮦ ﻣَﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺍَﭘﻨﯽ ﭼﺎﮨَﺖ ﮐَﻮ،
ﮐَﺒﮭﯽ ﺭُﺳﻮﺍ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.!!!

کوئی تو ہوتا

کوئی تو ہوتا
میں جس کے دل کی کتاب بنتا
میں جس کی چاہت کا خواب بنتا
میں ہجر کے موسم کی لمبی راتوں میں
یاد بن کر عذاب بنتا
کوئی تو ہوتا
جو میری خواہش میں آٹھ کر راتوں کو خوب روتا
دکھوں کی چادر لپٹ کر ہجوم دنیا سے دور ہوتا
میں روٹھ جاتا مناتا مجھ کو
کہ چاہے میرا قصور ہوتا
کوئی تو ہوتا
میں جس کے اتنا قریب ہوتا
نا پاس کوئی رقیب ہوتا
میں اتنا اس کا حبیب ہوتا
یہ سلسلہ بھی عجیب ہوتا
کوئی تو ہوتا...

Saturday, 12 November 2016

MEn diN DhaLta

MEn DiN DhaLta,,,,!!
MEn Shaam Piya,,,,!!!


MEra JEEwan Kitna Aam Piya,
MEre 4rOn Aur Hawaen Hain,
MEn Rait Pe Likha Naam Piya__♥


Hai KOn Sakhi Hai KOn Kharra__??
Mujhe LOgOn Sy Kya Kaam Piya__??


MEri Laaj Hawa KO Mat dEna,
Mat Kar dEna BadNaam Piya,
TEra Naam Likha Har BOOte Par,
Aur MEn Sehraa Gum'Naam Piya__♥


MEri AakhiyOn Kuch Dair Theer,
Jhat KarLe Tu Aaram Piya,
Is Maan Ka MOL Nhi MOrakh,
Na MaaL dEkha Na Daam Piya__♥


Tu Harjaai Hai AzLOn Sy,
Mat dE Mujh'KO ILzaam Piya,
KOi Waaidh BuLa dE JaLdi Sy,
KyOn dEkhta Hai Har Gaam Piya___!!!!!!
_
_
Typeing By
ZuLFiqar ALi__🌟🌟🌟

Monday, 7 November 2016

Tum Se Ummeed-E-Wafa Kaisi

Tum Se Ummeed-E-Wafa Kaisi,,,?
TaLauq Toot Jaai Jab__!!
"
"
Muhabbat Rooth Jaai Jab
To Phir Rasm-E-Dua Kaisi,,,?
"
"
MiLan Ki ILtija Kaisi,,,?
Bhanwar MEn DoLti Kashti Pe SahiL
Ki Tamanna Kya,,,?
"
"
"
Ukharti Saans Hoon To Zindagi Ki
Aarzoo Bhe Kya,,,?
Jo ManziL Kho Chuke Hain Uss Ki Phir
Se Justaju Bhe Kya,,,?
"
"
"
Raza-E-Dost Par Acha,Sar-E-
TasLeem Kham Karna
Sisakne Se Yahi Behtar Hai Na
Ummeed Hi Marna__!!
"
"
"
Magar DiL Ne Tumhen Kis Wastay
Yaad Rakha Hai,,,?
"
Tumhen KyOn Shairi MEn Aaj Tak
Aabad Rakha Hai,,,?
"
Abhi Tak Manie KyOn Khud Ko
Bohat Barbad Rakha Hai,,,?
"
Hawa k Dosh Par KyOn Naghma-E-
Faryad Rakha Hai,,,?
"
"
Judai Dene WaLe Aashnaii Ki
Qasam Tum Ko__!
"
Tumhari BEwafaii Kuj Adai Ki
Qasam Tum Ko__!!
"
Mujh Ko Itna Bata Dena
Wafa Ki Chahtoon Ki MashaLen
Kaisy Bujhate Hain,,,?
"
Nishan Kaisy Mitatay Hain,,,?
"
BhuLana Ho Jinhen
Un Ko BhaLa Kaisy BhuLte Hain,,,?
Judaii Dene WaLe...... !!!

BOL Hawa Us Paar Zamane Kaisy Hain

BOL Hawa Us Paar Zamane Kaisy Hain____??
"
"
"
Ujjre Shaher MEn Yaar Puraane Kaisy Hain____??
"
"
"
Chand Uttra Hai Ab Kis Kis K Aangan MEn___??
"
"
"
KirnO Sy MEhrOOm Gharane Kaisy Hain___??
"
"
Lab Basta DarwazOn Par Kya Beet Gai
GaLiyOn Sy MansOOb Fasane Kaisy Hain___??
"
"
JiN Ki Jhurmat MEn Shamaa Dum TOOr Gai
WOh Pyare PagaL Parwane Kaisy Hain___??
"
"
YaarO Hum TO Khair Khabar Sy Bhe Guzre
Apni ROOthe Yaar Na-JaNE Kaisy Hain_____??
"
"
"
BOL HAWA Us Paar Zaamane Kaisy Hain____!!!