Thursday, 16 March 2017

یہ غم نہیں کہ وہ مجھ سے

یہ غم نہیں کہ وہ مجھ سے وفا نہیں کرتا
ستم تو یہ ہے کہ کہتا ہے 'جا، نہیں کرتا'

طلوعِ عارض و لب تک میں صبر کرتا ہوں
سو، منہ اندھیرے غزل ابتدا نہیں کرتا

یہ شہر ایسے حریصوں کا شہر ہے کہ یہاں
فقیر بھیک لیے بِن دعا نہیں کرتا

زباں کا تلخ ہے لیکن، وہ دل کا اچھا ہے
سو، اس کی بات پہ میں دل برا نہیں کرتا

بس ایک مصرعۂ تر کی تلاش ہے مجھ کو
میں سعیِ چشمہء آبِ بقا نہیں کرتا

شہیدِ عشق کی سرشاریاں ملاحظہ ہوں
گلا کٹا کے بھی خوش ہے، گِلہ نہیں کرتا

رحمان فارس

No comments: