محبت مر ہی جائے گی
مجھے تم سے یہ کہنا ہے
مرے معصوم سے دل کو
لگا ہر دم یہ دھڑکا ہے
محبت مر ہی جائے گی
چلو یہ مان لیتی ہوں
کہ میں ہی اس کی مجرم ہوں
محبت میں نے ہی کی تھی
تمہیں اس کی ضرورت تھی
جلا کر اپنے خوابوں کو
تمہارا گھر کیا روشن
تمہاری ہر تمنا کو
بٹھایا دل کی مسند پر
تمہارے دل کے گلشن کو
سجایا خونِ دل دے کر
تمہاری راہ کے کانٹے
سبھی تو چُن لئے میں نے
بہاریں سونپ کر تم کو
کیا ویران اس دل کو
مگر پھر بھی یہ لگتا ہے
محبت مر ہی جائے گی
میں ہی نادان تھی مانا
اُمیدیں میں نے باندھی تھیں
تمہارے جو بھی وعدے تھے
اُنہیں سچ مان بیٹھی...
No comments:
Post a Comment