Tuesday, 31 May 2016

Furssat

مل گئی آپ کو فرصت کیسے
یاد آئی میری صورت کیسے 

پوچھ ان سے جو بچھڑ جاتے ہیں 
ٹوٹ پڑتی ہے قیامت کیسے 

تیری خاطر تو یہ آنکھیں پائیں 
میں بھلا دوں تیری صورت کیسے 

اب تو سب کچھ ہی میسر ہے اسے 
اب اسے میری ضرورت کیسے 

تجھ سے اب کوئی تعلق ہی نہیں 
تجھ سے اب کوئی شکایت کیسے

کاش ہم کو بھی بتا دے کوئی 
لوگ کرتے ہیں محبت کیسے 

تیرے دل میں میری یادیں تڑپیں 
اتنی اچھی میری قسمت کیسے

وہ تو خود اپنی تمنا ہے عدیم
اس کے دل میں کوئی چاہت کیسے

No comments: