آنکھوں کو پُر نم ، حسرت کا دروازہ وا رکّھا ہے
اپنے ٹوٹے خواب کو ہم نے' اب تک زندہ رکّھا ہے
عشق کِیا تو ٹوٹ کے جی بھر ' نفرت کی تو شدّت سے
اپنے ہر کردار کا چہرہ ' ہم نے اُجلا رکّھا ہے
جو آیا بازار میں وہ بس جانچ پرَکھ کر چھوڑ گیا
ہم نے خود کو سوچ سمجھ کر ' تھوڑا مہنگا رکّھا ہے
تھا اعلان کہانی میں' اک روز ندی بھی آئے گی
ہم نے اِس امّید میں خود کو اب تک پیاسا رکّھا ہے.!!!
No comments:
Post a Comment