Thursday, 16 March 2017

آنکھوں کو پُر نم

آنکھوں کو پُر نم ، حسرت کا دروازہ وا رکّھا ہے
اپنے ٹوٹے خواب کو ہم نے' اب تک زندہ رکّھا ہے

عشق کِیا تو ٹوٹ کے جی بھر ' نفرت کی تو شدّت سے
اپنے ہر کردار کا چہرہ ' ہم نے اُجلا رکّھا ہے

جو آیا بازار میں وہ بس جانچ پرَکھ کر چھوڑ گیا
ہم نے خود کو سوچ سمجھ کر ' تھوڑا مہنگا رکّھا ہے

تھا اعلان کہانی میں' اک روز ندی بھی آئے گی
ہم نے اِس امّید میں خود کو اب تک پیاسا رکّھا ہے.!!!

No comments: