Showing posts with label IsLamic Collection. Show all posts
Showing posts with label IsLamic Collection. Show all posts

Sunday, 19 March 2017

جب قرآن پہ پابندی لگی 1973 روس میں

جب قرآن پہ پابندی لگی :
1973 روس میں کمیونزم کا طوطا بولتا تھا بلکہ دنیا تو یہ کہہ رہی تھی کہ بس اب پورا ایشیا سرخ ہوجاے گا ان دنوں میں ہمارے ایک دوست ماسکو ٹریننگ کے لیے چلے گئے وہ کہتے ہے کہ جمعے کے دن میں نے دوستوں سے کہا کہ چلو جمعہ ادا کرنے کی تیاری کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہاں مسجدوں کو گودام بنا دیا گیا ہے ایک دو مساجد کو سیاحوں کا قیام گاہ بنا دیا گیا ہے صرف دو ہی مسجد اس شہر میں بچے ہے جو کھبی بند اور کھبی کھلے ہوتے ہیں میں نے کہا آپ مجھے مساجد کا پتہ بتا دے میں وہی چلا جاتا ہوں جمعہ ادا کرنے ۔ پتہ لیکر میں مسجد تک پہنچا تو مسجد بند تھی ، مسجد کے پڑوس میں ہی ایک بندے کے ساتھ مسجد کی چابی تھی میں نے اس آدمی کو کہا کہ دروازہ کھول دو مسجد کا ، مجھے نماز پڑھنی ہے ،
اس نے کہا دروازہ تو میں کھول دونگا لیکن اگر آپکو کوی نقصان پہنچا تو میں زمہ دار نہیں ہوں گا ، میں نے کہا دیکھیں جناب میں پاکستان میں بھی مسلمان تھا اور روس کے ماسکو میں بھی مسلمان ہی ہوں پاکستان کے کراچی میں بھی نماز ادا کرتا تھا اور روس کے ماسکو میں بھی نماز ادا کروں گا چاہے کچھ بھی ہوجاے ۔ اس نے مسجد کا دروازہ کھولا تو اندر مسجد کا ماحول بہت خراب تھا میں نے جلدی جلدی صفائی کی اور مسجد کی حالت اچھی کرنے کی کوشیش کرنے لگا کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے بلند آواز سے آزان دی ۔۔۔۔۔ آزان کی آواز سن کر بوڑھے بچے مرد عورت جوان سب مسجد کے دروازے پہ جمع ہوے کہ یہ کون ہے جس نے موت کو آواز دی ۔۔۔۔ لیکن مسجد کے اندر کوی بھی نہیں آیا،۔۔۔۔ خیر میں نے جمعہ تو ادا نہیں کیا کیونکہ اکیلا ہی تھا بس ظہر کی نماز ادا کی اور مسجد سے باہر آگیا جب میں جانے لگا تو لوگ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نماز ادا کرکہ باہر نہیں نکلا بلکہ دنیا کا کویی نیا کام متعارف کرواکر مسجد سے نکلا،
ایک بچہ میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ ہمارے گھر چاۓ پینے آے ۔ اسکے لہجے میں حلوص ایسا تھا کہ میں انکار نہ کرسکا میں انکے ساتھ گیا تو گھر میں طرح طرح کے پکوان بن چکے تھے اور میرے آنے پہ سب بہت خوش دکھائی دے رہے تھے میں نے کھانا کھایا چاے پی تو ایک بچہ ساتھ بیٹھا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا آپکو قرآن پاک پڑھنا آتا ہے ۔ ؟
بچے نے کہا جی بلکل قرآن پاک تو ہم سب کو آتا ہے ، میں نے جیب سے قرآن کا چھوٹا نسحہ نکالا اور کہا یہ پڑھ کر سناو مجھے ۔۔۔
بچے نے قرآن کو دیکھا اور مجھے دیکھا پھر قرآن کو دیکھا اور ماں باپ کو دیکھ کر دروازے کو دیکھا پھر مجھے دیکھا ۔ میں نے سوچا اس کو قرآن پڑھنا نھی آتا لیکن اس نے کہا کیوں کہ اسکو قرآن پڑھنا آتا ہے ۔ میں نے کہا بیٹا یہ دیکھو قرآن کی اس آیت پہ انگلی
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ
رکھی تو وہ فر فر بولنے لگا بنا قرآن کو دیکھے ہی ۔۔۔۔ مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا کہ یہ تو قرآن کو دیکھے بنا ہی پڑھنے لگا میں نے اسکے والدین سے کہا " حضرات یہ کیا معاملہ ہے ؟
انہوں نے مسکرا کر کہا " دراصل ہمارے پاس قرآن پاک موجود نہیں کسی کے گھر سے قرآن پاک کے آیت کا ایک ٹکڑا بھی مل جاے تو اس تمام حاندان کو پھانسی کی سزا دے دی جاتی ھے اس وجہ سے ہم لوگ قرآن پاک نہیں رکھتے گھروں میں "
" تو پھر اس بچے کو قرآن کس نے سکھایا کیونکہ قرآن پاک تو کسی کے پاس ہے ہی نہیں " میں نے مزید حیران ہوکر کہا
" ہمارے پاس قرآن کے کئ حافظ ہے کوئی درزی ہے کوی دکاندار کوئ سبزی فروش کوئی کسان ہم انکے پاس اپنے بچے بھیج دیتے ہے محنت مزدوری کے بہانے ۔۔۔۔ وہ انکو الحمد اللہ سے لیکر والناس تک زبانی قرآن پڑھاتے ہیں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ وہ حافظ قرآن بن جاتے ہے کسی کے پاس قرآن کا نسحہ ہے نہیں اسلیئے ہماری نیی نسل کو ناظرہ نہیں آتا بلکہ اس وقت ہمارے گلیوں میں آپکو جتنے بھی بچے دکھائی دے رہے ہیں یہ سب کے سب حافظ قرآن ہے ۔ یہی وجہ ہے جب آپ نے اس بچے کے سامنے قرآن رکھا تو اسکو پڑھنا نہیں آیا ناظرہ کرکہ لیکن جب آپ نے آیت سنائی تو وہ فر فر بولنے لگا اگر آپ نہ روکتے تو یہ سارا قرآن ہی پڑھ کر سنا دیتا ۔
وہ نوجوان کہتا ہے کہ میں نے قرآن کا ایک نہیں کئ ہزار معجزے اس دن دیکھے ، جس معاشرے میں قرآن پہ پابندی لگا دی گئ تھی رکھنے پہ ، اس معاشرے کے ہر ہر بچے بوڑھے مرد عورت کے سینوں میں قرآن حفظ ہوکر رہ گیا تھا میں جب باہر نکلا تو کئ سو بچے دیکھے اور ان سے قرآن سننے کی فرمائش کی تو سب نے قرآن سنا دی ، میں نے کہا
" لوگوں ۔۔۔۔۔! تم نے قرآن رکھنے پہ پابندی لگا دی لیکن جو سینے میں قرآن مجید محفوظ ہے اس پہ پابندی نہ لگا سکے ۔تب مجھے احساس ہوا کہ اللہ پاک کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے
إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ::: بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
احباب سے پرزور اپیل ہے کہ اس تحریر کو دل کھول کہ شیئر کریں آپکا ایک سینکڈ لگے گا اور لوگوں کے علم میں اضافہ ہوگا اور اس کار خیر کا سبب آپ بنو گے... جی ہاں آپ...

Saturday, 18 March 2017

لبرلز اور نام نہاد

#لبرلز اور نام نہاد #دانشوری جھاڑنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا ایک انداز یہ بھی ہے
_________
لاہور کی معروف یونیورسٹی میں ایک عزیز دوست میڈیا اینڈ ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کی ڈگری کر رہے ہیں۔ واقعہ بیان کرتے ہیں دورانِ لیکچر ایک روز اسلام اور رسول ﷺ کی توہین کا معاملہ زیرِ بحث آیا تو لیکچرار صاحب نے دانشوری بکھیرتے ہوئے فرمایا گستاخِ رسول کو تبلیغ کے ذریعے قائل کرنا چاہیے اور اپنے دعوے کی تائید میں مختلف قسم کے بودے دلائل جھاڑنے لگے جو شرعی لحاظ سے بھی غلط تھے۔
خاصا دینی علم ہونے کے باوجود میرے دوست نے انکو دوسرے طریقے سے جواب دینے کا فیصلہ کیا اور بھری کلاس میں بآوازِ بلند گویا ہوئے
"چل اوئے کھوتے کے بچے یہ کیا بکواس کر رہا ہے"
یہ گالی سن کر لیکچرار صاحب کی دماغ کی چولیں ہل گئیں، منہ سے جھاگ اڑاتے گالیاں بکتے اس دوست کا گریبان پکڑنے کو دوڑے، تو نے میرے باپ کو کھوتا کہا ؟؟
خیر بمشکل دیگر ہم جماعت دوستوں نے لیکچرار کو قابو کیا اور یہ دوست اپنی نشست پر کھڑا ہو کر کہنے لگا
جنابِ والا آپ کے باپ کو گالی دینے پر معافی چاہتا ہوں لیکن آپ نے مجھے سمجھانے کیلیے تبلیغ کیوں نہ کی اور اس قدر جلال میں آکر دوگنا گالیاں کیوں دے گئے ؟
لیکچرار آئیں بائیں شائیں کرنے لگا اور ہنوز غصے میں کانپ رہا تھا جس پر دوست نے کہا
"النبی اولی بالمومنین من انفسھم "
نبی ﷺ مومنین پر انکی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں، مومن کیلیے نبی ﷺ کی عزت اپنے ماں باپ سے بہت زیادہ ہوتی ہے، فداک امی و ابی یا رسول اللہ کے نعرے کی بنیاد یہی عقیدہ ہے۔ بس اتنی سادہ سی بات تھی جس کو سمجھنے کیلیے کسی گہرے فلسفے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔۔!
#فداه_أبي_وأمي
صلى الله عليه وسلم
(منقول)

Thursday, 16 March 2017

فاختہ کی ممتا اور بارگاہِ رسالت ﷺ

فاختہ کی ممتا اور بارگاہِ رسالت
ایک اعرابی اپنے اوپر چادر ڈالے حاضر ہوا اور کہنے لگا: آپ میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بتایا:’’ یہ ہیںروشن چہرے والے‘‘ اعرابی نے حضور ﷺ سےعرض کیا: ’’یامحمد ﷺ اگر آپﷺ سچے نبی ہیں تو بتائیے کہ میرے پاس کیا ہے؟ اگربتا دیا تو میں آپ ﷺ پر ایمان لے آؤںگا۔اعرابی نے ایمان لانے کا وعدہ کرلیا تو حضورنبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’سنو! تم فلاں وادی سے گزر رہے تھے۔ تمہاری نظر فاختہ کے گھونسلے پر پڑی‘ اس میں دو بچے تھے۔ تم نے پکڑلیے جب فاختہ نے گھونسلہ خالی دیکھا تووادی میں چاروں طرف اڑنے لگی۔ تمہارے سوا اسےکچھ بھی نظر نہ آیا تو فاختہ کو یقین ہوگیا کہ بچے تمہارے پاس ہیں۔ اپنے بچوں کی خاطر وہ تمہارے سامنے گرپڑی تو تم نے اُسے بھی دبوچ لیا‘ اس وقت دو بچے اور ان کی ماں تینوں تمہارے پاس ہیں۔‘‘ یہ سن کر اعرابی نے اپنی چادر اتار دی۔
حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادپاک کے مطابق تینوں پرندے اس میں موجود تھے۔ پھر کیا تھا؟ اعرابی کلمہ پڑھ کر ایمان لے آیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ماں کی ممتا پر متعجب ہوئے تو حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تم اس پر تعجب کررہے ہو‘سنو جب بندے توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر فاختہ کی ممتا سے بھی زیادہ رحم آجاتا ہے۔‘‘ حضور نبی اکرم ﷺ نے اعرابی سے فرمایا: ’’ فاختہ اور اس کے بچوں کو آزاد کردے۔‘‘ (مشکوٰۃ)(عبقری میگزین اپریل 2013ءصفحہ19)