Tuesday, 3 May 2016

BEhaayai

٭٭٭بے حیائی٭٭٭
آج کل بے حیائی اتنی تیزی سےعام ہو رہی ہے کہ اس کی موجوں میں بڑے بڑے لوگ بہہ گئے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک گھر میں مرد کی موجودگی میں موسیقی کی آواز کیسے فضا میں بلند ہوئی، ماں زندہ ہے اور بچے بے حیائی میں گم ہوں؟ یہ کیا ہو گیا ہمارے معاشرے کو؟ یہ تو کچھ بھی نہیں دل تو تب روتا ہے جب ماں، بیٹا بہن اور بھائی سب اکھٹے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں اور موسیقی سے روح کو عذاب دیتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ بہت کچھ لکھوں مگر جس میں احساس ہو اس کے لیے ایک جملہ بھی کافی ہوتا ہے، اور جو احساس کی نعمت  سے محروم ہو اس کی بیداری کے لیے کچھ لکھنا بھینس کے آگے بین بجانا ہے۔

No comments: