Tuesday, 3 May 2016

Baarish

کتنی دلچسپ ہے سردی کی یہ بارش جاناں
کھل کے برسے بھی نہیں، تن کو بھگوئے بھی نہیں

اتنے پر لطف تواتر سے برستی بارش
جس طرح یاد تری دل میں ہے قطرہ قطرہ

جو بظاہر تو بہت بے ضرر سی لگتی ہے
ہاں مگر اس کا تسلسل کرے روح کو چھلنی

صبح سے شام تلک سرد سی بوندوں کی پھوار
رات کو جھیل کی سی شکل میں جل تھل کرتی

کتنے دلچسپ ہیں سردی میں تیری یاد کے پل
اس مسلسل سی، لگاتار سی بارش کی طرح

اب ترا درد اذیت نہیں دیتا مجھ کو
اس میں شدت کی جگہ اب ہے تواتر جاناں

کتنی پر کیف ہے میٹھی سی کسک یادوں کی
ہو ہتھیلی پہ چبھن جس طرح ان قطروں کی

No comments: