کس قدر صاف و بے ریا ہو تم
شہر میں گاؤں کی فضا ہو تم
میں تمہارے لئے غزل لکھوں
اور غزل وہ جسے سراہو تم!
میرے اور میری خامشی کے بیچ
سب سے پہلا مکالمہ ہو تم
کس قدر خوشگوار اداسی ہے
ان دنوں میرا مسئلہ ہو تم
میرے خواب و خیال کی دنیا
پھر سے آباد ہو، جو چاہو تم
ایسے لوگوں سے میں نہیں ملتا
جو یہ کہتے ہیں بے وفا ہو تم
کبھی ہمدرد اور کبھی ناراض
میرے اشعار کی طرح ہو تم
No comments:
Post a Comment